Site Loader
0

Moeen Nizami Poetry

ڈر لگتا ہے

ڈر لگتا ہے ہنس مکھ لڑکی! ڈر لگتا ہے
ڈر لگتا ہے تم کو بھی کوئی قتل نہ کر دے
تم بھی کسی مصروف سڑک پر
تڑپ تڑپ کر مر نہ جاؤ
پڑھنے نکلو لوٹ کے اپنے گھر نہ جاؤ
پرس میں کوئی الٹا سیدھا خط نہ پایا جائے
!جیتی جاگتی زندہ پہیلی
موت کے بعد بھی ساری دنیا تم کو بوجھ نہ پائے
ڈر لگتا ہے
شہر میں ایک مہینے میں
یہ تیسرا ایسا قتل ہوا ہے
تم بھی بالکل پاگل ہو
منٹوں میں ہر ایک سے گھل مل جاتی ہو
بچوں جیسی باتیں کرنے لگ جاتی ہو
باہر تو اجلاہٹ ہے
اندر جانے کیا ہے
تتلیاں اڑتی پھرتی ہیں
یا کالا ناگ چھپا ہے
کس کو پتا ہے؟
اچھے اچھے پھولوں کو
ہم مسل کے خوش کیوں ہوتے ہیں
ہنستے کھیلتے چہرے ہم کو
!اچھے کیوں نہیں لگتے

Please follow and like us:

Post Author: Admin

One Reply to “ڈر لگتا ہے – Dedicated To All The Daughters”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *