میرے بچپن کی تصاویر

Moeen Nizami Childhood

 

میرے بچپن اور لڑکپن کی بہت سی تصاویر تھیں جن میں سے میرے پاس دو چار ہی محفوظ رہ گئی ہیں. کچھ گم ہو گئیں. کچھ مَیں نے انھی دنوں بہنوں کے ہاتھ بیچیں،چھینیں اور پھر بیچیں. یوں وہ میرے ہاتھ سے نکل گئیں. خاص طور پر مجھ سے چھوٹی بہن ان کی سب سے بڑی ذخیرہ اندوز ہیں. میرے بچوں نے پھوپھی کے پاس موجود چند تصاویر ڈیجٹلائز کی ہیں مگر ابھی خاصا کام باقی لگتا ہے.

مَیں بہت خوش قسمت تھا کہ مجھے ایک عظیم فوٹو گرافر میسر رہے. ملک کے نامور خطاط حافظ محمد یوسف سدیدی میرے دادا کے مریدِ صادق تھے اور میرے والدِ مرحوم سے بہت محبت کرتے تھے.انھیں فوٹو گرافی کا بے حد شوق تھا اور انھوں نے کئی مہنگے کیمرے خرید کر رکھے تھے. اپنے پیر خانے معظم آباد آتے ہوئے وہ کبھی دو تین کیمروں کے بغیر نہیں آتے تھے. خانقاہِ معظمیہ،معظم آباد ضلع سرگودھا کی تصویری تاریخ بیشتر حافظ محمد یوسف سدیدی ہی کے کیمروں نے محفوظ کی.اللہ تعالیٰ ان کی روح آسودہ رکھے.

محمد رضاء اللہ سدیدی نامی ایک طالب علم بھی ان دنوں وہاں مقیم تھے. انھیں بھی فوٹو گرافی کا شوق تھا جس کی تسکین کے لیے انھوں نے ایک کیمرا خریدا ہوا تھا. انھوں نے بھی میری بہت سی تصویریں بنائیں. ان کی بنائی ہوئی دو چار تصویریں بھی محفوظ ہیں. ان کے واقفانِ حال بتاتے ہیں کہ خانقاہ میں ان کے کیمرا رکھنے پر بہ وجوہ پابندی عائد تھی. وہ بھی بے حد سیانے نکلے، نہایت خشوع وخضوع سے روزانہ میری تصاویر بنا بنا کر آخرکار اپنے کیمرے کو قانونی حیثیت دلانے میں کامیاب ہو گئے. میرے یہ زندہ دل فوٹوگرافر ماشاء اللہ حیات ہیں اور مجھ سے کم از کم پندرہ بیس سال بڑا ہونے کے باوجود دس بارہ سال کم عمر لگتے ہیں.

زیرِ نظر تصویر کل مجھے میرے خالہ زاد بھائی حسین احمد گوندل صاحب نے بھیجی ہے جو میرے بہنوئی بھی ہیں اور آج کل ڈویژنل ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر سرگودھا ڈویژن کے طور پر کام کر رہے ہیں. انھوں نے چند اور تصاویر بھی ارسال کی ہیں اور بعض کا وعدہ کیا ہے.

یہ تصویر ١٩٧٥ء میں حافظ محمد یوسف سدیدی مرحوم نے معظم آباد میں بنائی تھی. میرے ساتھ میرے چھوٹے بھائی محمد قطب فصیح ہیں.

Share